Tuesday, 17 July 2018

دل پہ ذخم کھاتے ہیں جان سے گزرتے ہیں-Nfak Qawali



دل پہ ذخم کھاتے ہیں جان سے گزرتے ہیں
جرم صرف اتنا ہے ان کو پیار کرتے ہیں
اعتبار بڑھتا ہے اور بھی محبت کا 
جب وہ اجنبی بن کر پاس سے گزرتے ہیں
ان کی انجمن بھی ہے تار بھی رسم بھی ہے
دیکھنا ہے دیوانے اب کہاں ٹھرتے ہیں
ان کے اک تغافل سے ٹوٹتے ہیں دل کتنے 
ان کی اک توجہ سے کتنے زخم بھرتے ہیں
جو پلے ہیں زلمت میں کیا سحر کو پہچانے 
تیرگی کے شہدائ روشنی سے ڈرتے ہیں
لاکھ وہ گریزاں ہوں لاکھ وہ دشمن_ جاں ہوں
دل کا کیا کریں صاحب ہم ان ہی پہ مرتے ہیں

3 comments:

  1. ان کی انجمن بھی ہے, دار بھی رسن بھی ہے
    دیکھنا ہے دیوانے اب کہاں ٹھرتے ہیں

    ReplyDelete
  2. جو پلے ہیں ظلمت میں کیا سحر کو پہچانیں
    تیرگی کے شیداٸ روشنی سے ڈرتے ہیں

    ReplyDelete
  3. Zabardast G Wah

    ReplyDelete