جرم صرف اتنا ہے ان کو پیار کرتے ہیں
اعتبار بڑھتا ہے اور بھی محبت کا
جب وہ اجنبی بن کر پاس سے گزرتے ہیں
ان کی انجمن بھی ہے تار بھی رسم بھی ہے
دیکھنا ہے دیوانے اب کہاں ٹھرتے ہیں
ان کے اک تغافل سے ٹوٹتے ہیں دل کتنے
ان کی اک توجہ سے کتنے زخم بھرتے ہیں
جو پلے ہیں زلمت میں کیا سحر کو پہچانے
تیرگی کے شہدائ روشنی سے ڈرتے ہیں
لاکھ وہ گریزاں ہوں لاکھ وہ دشمن_ جاں ہوں
دل کا کیا کریں صاحب ہم ان ہی پہ مرتے ہیں


ان کی انجمن بھی ہے, دار بھی رسن بھی ہے
ReplyDeleteدیکھنا ہے دیوانے اب کہاں ٹھرتے ہیں
جو پلے ہیں ظلمت میں کیا سحر کو پہچانیں
ReplyDeleteتیرگی کے شیداٸ روشنی سے ڈرتے ہیں
Zabardast G Wah
ReplyDelete