Friday, 20 July 2018
Thursday, 19 July 2018
Wednesday, 18 July 2018
Tuesday, 17 July 2018
دل پہ ذخم کھاتے ہیں جان سے گزرتے ہیں-Nfak Qawali
جرم صرف اتنا ہے ان کو پیار کرتے ہیں
اعتبار بڑھتا ہے اور بھی محبت کا
جب وہ اجنبی بن کر پاس سے گزرتے ہیں
ان کی انجمن بھی ہے تار بھی رسم بھی ہے
دیکھنا ہے دیوانے اب کہاں ٹھرتے ہیں
ان کے اک تغافل سے ٹوٹتے ہیں دل کتنے
ان کی اک توجہ سے کتنے زخم بھرتے ہیں
جو پلے ہیں زلمت میں کیا سحر کو پہچانے
تیرگی کے شہدائ روشنی سے ڈرتے ہیں
لاکھ وہ گریزاں ہوں لاکھ وہ دشمن_ جاں ہوں
دل کا کیا کریں صاحب ہم ان ہی پہ مرتے ہیں
Subscribe to:
Comments (Atom)

